Wednesday, June 25, 2014

Guest Blog: How Pakistan’s political scenario affects the property market

Disclaimer: The views in the following article are of the author alone and doesn't reflects the stance of Critic Magazine's Blog

Prime Minister Nawaz Sharif’s government has had a positive impact on the real estate sector in Pakistan. The property market experienced a major boom during the third and fourth quarter of 2013, right after the general elections held in May. However, the property market went through a correction phase in the first quarter of 2014, where the prices experienced a slight dip. But, due to the efforts of the government, another real estate boom is expected soon.

A massive inflow of foreign direct investment can be seen in Pakistan. Projects such as the metro bus and train (investment from Turkey), solar project partnerships, deep sea port development (investment from China) and many other projects (investment from European countries and USA) are being developed by the government with the support of other countries. Such projects help to develop an urban infrastructure and hence increase real estate values.

Blogger Tricks

Thursday, June 12, 2014

کیا کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے؟

عمر جاوید

کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے کے فلسفے کی نسبت سے ہمارے ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں میں اس بات  کا رجہان پایا جاتا ہے کہ ملک کے اداروں میں اپنے نظریے کے لوگوں کو داخل کرکے ان اداروں سے کچھ خیر کی امید رکھی جاسکتی ہے. جیسے جیسے ان اداروں میں دیندار لوگوں کا اضافہ ہوتا چلا جاۓ گا ویسے ویسے وہ ادارہ یا ادارے شر سے پاک ہوتے چلے جائیں  گے. مزے کی بات یہ ہیں کے ویسے تو جماعت اور جمیعت کے لوگ ایک دوسرے کے مدمقابل نظر اتے ہیں لیکن اس نظریے پر متفق ہیں. جمیعت کی پشت پناہی کرنے والے علماءدیوبند بھی شائد اس نظریے سے اتفاق کرتے نظر اتے ہیں.
بظاھر تو اس نظریے کی ابتدا پاکستان بنے کے بعد مولانا مودودی اور مفتی محمود کی تحریک سے ہوتی نظر اتی ہے لیکن کچھ غور کرنے پر یہ معلوم ہوتا ہیں کے وہ دراصل سر سید احمد خان صاحب تھے جنہوں نے اس نظریے کی داغ بیل ڈالی. اگر اس بات کو سہی تسلیم کر لیا جاۓ تو اس نظریے کی عمر کوئی ١٥٠ سال ہو جاتی ہے. اس پورے عرصے میں اس نظریے سے اتفاق کرنے والوں کی تعداد میں خاطر خوا اضافہ ہوا ہے اور آج اک بہت بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کے  نیک اور ایمان دار لوگوں کو مختلف ریاستی اداروں کا حصہ بنا کر ان اداروں کو شر سے پاک  کیا جا سکتا ہے.