By Shahnawaz Farooqi @ Jasarat
زندگی میں اصل چیز کمال پیدا کرکے دکھانا ہے۔ آدمی ڈاکا بھی ڈالے تو اس طرح کہ لوگ کہیں: ڈاکو نے کمال کردیا۔ معاف کیجیے گا ہم نے ڈاکو کی مثال ضرور دی ہے مگر زور ہمارا کمال ہی پر ہے۔ اس کی وجہ ہے۔ کمال کا مطلب زندگی اور اُس کے اسالیب کی بلند ترین سطحوں کو چھونا ہے۔ جو لوگ کمال کرتے ہیں وہ زندگی کو اُس کی بلند ترین سطح پر چھوکر روحِ حیات کا براہِ راست دیدار کرتے ہیں۔ اس کے لمس سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ اور شاعری میں استاد ذوق کی آرزو کمال کے حصول کی تمنا کی ایک اچھی مثال ہے۔ استاد ذوق نے فرمایا ہی: نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب ذوق لوگوں نے بہت زور غزل میں مارا میر کی شاعری اور ان کا اسلوب اردو شاعری کی معراج ہے‘ اور اُن کے زمانے سے آج تک لاکھوں لوگوں نے میر کی طرح کی شاعری کی خواہش کی ہے۔ یہ خواہش میر کے ”کمال“ میں شریک ہونے کی خواہش ہے۔
ذوق نے بھی یہ خواہش کی تھی مگر کامیاب نہ ہوئے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ میر کا کمال عشق کے تجربے سے پیدا ہوا ہے‘ اور ذوق عشق کے بجائے ”زور“ سے کام لیتے ہوئے پائے گئے۔ جان کیٹس انگریزی کا عظیم رومانوی شاعر ہے۔ جب تک انگریزی کی رومانوی شاعری زندہ رہے گی‘ کیٹس کا نام زندہ رہے گا۔ لیکن کیٹس نے اپنے ایک خط میں خواہش ظاہر کی ہے کہ کاش میرا نام شیکسپیئر کے ساتھ لیا جائے۔ اس کی وجہ ہے۔ شیکسپیئر انگریزی میں تخلیق کا ”نقطہ عروج“ ہے۔ اور تو اور ہمارے فیض احمد فیض کو بھی کمال اور اس کی اہمیت کا اندازہ تھا‘ چنانچہ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ وہ ترکی کے عظیم شاعر ناظم حکمت اور چلی کے عظیم شاعر پابلد نرودا کی طرح کمال پیدا کرکے نہیں دکھا سکے۔ مگر یہ مثالیں شعروادب تک محدود نہیں۔ کمال زندگی کے ہر دائرے میں ہوتا ہے۔ چنانچہ کروڑوں لوگ آرزو کرتے ہوںگے کہ وہ بل گیٹس بن جائیں‘ کروڑوں نے تمنا کی ہوگی کہ وہ آئن اسٹائن کی عظمت کو چھو لیں۔ لیکن یہاں پہنچ کر ہم ایک مسئلے سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ زندگی کے دوسرے دائروں کی طرح مذہب میں بھی ”کمال“ ہوتا ہے۔ایک حدیث ِقدسی کے مطابق ہمارے دین میں اسلام‘ ایمان اور احسان کی درجہ بندی پائی جاتی ہے‘ اور احسان اسلام کا نقطہ کمال ہے۔
سیرت ِطیبہ اس کمال کا اعلیٰ ترین مظہر ہے۔ صحابہ کرام کی مقدس زندگیاں اس سے نچلی سطح پر کمال کا آئینہ ہیں۔ پھر تابعین ہیں‘ تبع تابعین ہیں‘ صوفیائے کرام ہیں‘ علمائے عظام ہیں۔ ہم ان عظیم ہستیوں کا ذکر ضرور کرتے ہیں مگر ان کی طرح ہونا نہیں چاہتے۔ دعووں اور نعروں کی بات اور ہے‘ ورنہ مذہب کے دائرے میں اوسط درجے کی مذہبی زندگی بھی ہمارے لیے بہت ہوتی ہے۔ ہمارا قدم اوسط درجے کے دائرے سے ذرا سا نکلتا ہے اور انتہاپسندی و شدت پسندی کے الزامات ہمارا تعاقب کرنے لگتے ہیں۔ بلاشبہ ہم سیرت ِطیبہ اور صحابہ کرام کی مثالیں ضرور دیتے ہیں لیکن زورِِ بیان اور اسلوب کی آرائش کے لیے۔ آخر ایسا کیوں ہی؟ مذہب میں ہم کیوں کمال پیدا نہیں کرنا چاہتی؟؟
اس سوال پر غور ہمیں اس حقیقت تک پہنچا دیتا ہے کہ ہمارے یہاں مذہب کے حوالے سے اعتدال کا ایک غلط تصور رائج ہے۔ ہم کہتے ہیں: اسلام میانہ روی کا مذہب ہے‘ اعتدال کا دین ہے۔ اور یہ غلط نہیں ہے۔ مگر اس تصور سے جو معنی منسوب کردیے گئے ہیں وہ سراسر غلط بلکہ اسلام کی ضد ہیں۔ ہمارے لوگوں کی عظیم اکثریت کے ذہن میں اعتدال کا مفہوم یہ ہے کہ سچ بولنا اچھی بات ہے مگر تھوڑا بہت جھوٹ بولنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ایمانداری اچھی چیز ہے لیکن ضرورت پڑ جائے تو بے ایمانی بھی روا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم تضادات سے بھرپور زندگی کو ”معتدل زندگی“ تصور کرتے ہیں۔ معتدل زندگی کے اِس تصور میں تھوڑا بہت روزہ نماز بھی بہت ہے۔ بلکہ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اگر ہم نے روزہ نماز کا کچھ اہتمام کرلیا تو یہی کمال ہے۔
انسان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ جیسی زندگی بسر کرتا ہے ویسا ہی کمال کا تصور بھی ایجاد کرلیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیے مذہب کی ظاہرداری بھی کافی ہے۔ آدمی ذرا سا مذہب کی اصل روح سے ہم آہنگ ہوا اور اسے انتہا پسند‘ شدت پسند اور بنیاد پرست کا خطاب ملا۔ ایک مسئلہ تو یہ ہوا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مذہب ترک کی تعلیم دیتا ہے‘ کم سے کم پر گزارے کی تلقین کرتا ہے‘ اور ہماری ساری زندگی کی تگ و دو یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دنیا کمانی ہے۔ چنانچہ مذہب کا تصورِ کمال ہماری دنیا کی محبت سے ٹکراتا ہے اور پاش پاش ہوجاتا ہے۔ بعض لوگ دنیا کو مال و دولت تک محدود سمجھتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ شہرت کیا‘علم اور مذہب تک دنیاپرستی کے مظاہر میں شامل (ہوسکتی) ہیں۔ آخر کتنے لوگ ہیں جو علم حاصل کرتے ہیں مگر صرف اس لیے کہ مشہور ہوسکیں۔ کتنے لوگ ہیں جو مذہبی زندگی اختیار کرتے ہیں مگر صرف اس لیے کہ نیک ”کہلائیں“۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم اور تقویٰ بھی مال و دولت اور اشیاءکی طرح ہوسکتا ہے۔ اس حقیقت کا ادراک کم لوگوں کو ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کی تمام سرگرمیاں اور ہنگامہ آرائی انا مرتکز یعنی Ego centric ہوتی ہے۔ ان سرگرمیوں کی لذت ہی نہیں ان کی معنویت بھی انا پرستی سے آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری تمام سرگرمیاں کسی نہ کسی عنوان سے ہماری انا کو پالتی پوستی ہیں اور اس کی تسکین کا باعث ہوتی ہیں‘ اسی لیے وہ سرگرمیاں ہمیں اچھی اور معنی خیز لگتی ہیں۔
مذہب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی انا پرستی کو برداشت نہیں کرسکتا۔ چنانچہ جیسے ہی ہم مذہبی کمال کی طرف بڑھنا شروع ہوتے ہیں انا کی موت واقع ہونے لگتی ہے اور ہمیں اپنی تمام سرگرمیاں بے معنی ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مذہبی کمال سے بھاگتے ہیں‘ اس سے دامن چھڑاتے ہیں۔ مذہب ہماری سرگرمیوں کو انا مرتکز نہیں رہنے دیتا۔ وہ انہیں خدا مرتکز یا God centric بناتا ہے‘ اور اس کا اپنا لطف ہے۔ مگر اس کام میں وقت صرف ہوتا ہے اور اس کے لیے طویل انتظار کے مرحلے سے گزرنا پڑسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زندگی کے دوسرے دائروں میں کمال خود انا کا کھیل ہوتا ہے‘ لیکن مذہب کے دائرے میں انا کے چنگل سے نجات حاصل کیے بغیر کمال کا تصور محال ہے۔ مذہبی زندگی کے دائرے میں ”تکمیل“ انسان کا خواب بھی ہے اور اس کا خوف بھی۔ خواب اس لیے کہ کامل ہوئے بغیر انسان اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل نہیں کرسکتا‘ اور خوف اس لیے کہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس سے بھی قبل تکمیل کے عمل میں قلب ِ ماہیت یا Transformation کا عمل مضمر ہے‘ اور یہ عمل بجائے خود ڈرا دینے والا ہے۔ اچھے اچھے اس کی تاب نہیں لا پاتے‘ چنانچہ وہ تکمیل سے یعنی کمال کے حتمی مرحلے سے بھاگتے ہیں۔
0 comments:
Post a Comment
Use of any abusive or inappropriate language will give us a reason to delete your comment.